Winners of the Tenth Cultural Competition of Ramadan in Urdu, 1430 AH | فضائل رمضان المبارک
ویلنٹائن ڈے کی حقیقت اور اس کا شرعی حکم
پرنٹ کرو دوست کو بھیجیں نگراں کو لیٹر بیھجیں تبصرہ بھیج دیں تبصرہ ظاہر کریں صفحہ کےلئےhtml کوڈ اپنائیں
عاشوراء محرّم روزِ عيد يا روز غم وماتم؟
کتب مادہ کا بیان
    عنوان: عاشوراء محرّم روزِ عيد يا روز غم وماتم؟
    زبان: اردو
    اضافہ کی تاریخ: Jan 02,2009
    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
    آئٹم کے ساتھ منسلک : 1
    مختصر بیان: يوم عاشوراء کوعہد رسالت ہی سے عید وسروركادن قراردیا گیا ہے لہذا ان ایام کوگریہ وماتم ورنج والم کے ایام قراردینا سراسرکفران نعمت ہے-خواہ ان میں کیسا ہی غم انگیزحادثہ رونما ہوجائے-لیکن ان ایام کی مستقل حیثیت وہی رہے گی جواسلام نے ٹہرائی ہےمگرافسوس کہ امت مسلمہ کے ایک طبقہ نےیوم عاشوراء سے بالکل نا آشنا ہوکرغلط اورباطل افکارکا شکارہوکراسے مستقل طورپرغم والم کا دن قراردیدیاہے اورمختلف قسم کے شرک وبدعت اورگناہ میں ملوث نظرآتا ہے. زیرنظرکتاب شیخ الحدیث عبید اللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ کی محرم کے باب میں سب سے جامع اورمانع کتاب ہے ضرورمطالعہ کریں.
    کھولنےکی تعداد: 2457
    پہنچنے کا رابط : http://www.islamhouse.com/p/190995
آئٹم کے ساتھ منسلک ( 1 )
1.
عاشوراء محرّم روزِ عيد يا روز غم وماتم؟.pdfعاشوراء محرّم روزِ عيد يا روز غم وماتم؟
1 MB
عاشوراء محرّم روزِ عيد يا روز غم وماتم؟.pdfمواد کو ڈاون لوڈ کریں: عاشوراء محرّم روزِ عيد يا روز غم وماتم؟.pdf: عاشوراء محرّم روزِ عيد يا روز غم وماتم؟.pdf
Go to the Top