واقعۂ معرا ج کے بابت لوگ افراط وتفریط کے شکارہیں کچہ تواسے حسین خواب قراردیتے ہیں اورکچھ اسمیں افراط وغلوکا مظاہرہ کرتے ہوئے عبدومعبوداورخالق ومخلوق کے فرق کوبھی مٹاڈالتے ہیں زيرنظركتاب ميں واقعۂ معراج سے متعلق لوگوں کے مابین پائی جانے والی افراط وتفریط کی تغلیط وتردید ,نیزاس سے متعلق رطب ویابس روایات کی تنقیح وتصحیح کرکے واقعہ کی صحیح شکل کولوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے .اردوزبان میں یہ پہلی مستند اورتحقیقی شاہکارہے. ضرورپڑھیں اوردعائیں دیں.
ماہ رجب کی بدعتیں : ہم سے شریعت الہی اورسنت محمدی - صلى الله عليه وسلم - کی پیروی کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ یہ رشد وہدایت کی اصل ہے اورگمراہی وبدبختی کی ضد ہے, اوراس لئے کہ اعمال دوشرطوں کے بغیرمقبول نہیں ہوتے:ایک اخلاص اوردوسری متابعت رسول - صلى الله عليه وسلم - اورآپ - صلى الله عليه وسلم - کثرت سے اپنی سنت کو لازم پکڑنے کا حکم دیتے تھے اوربدعت وایجاد کردہ چیزوں سے سختی سے ڈراتے تھے اوراس سلسلے میں سلف کے اقوال بہت مشہورہیں, زیرنظرسی ڈی میں ماہ رجب کی بعض ایجاد کردہ بدعتوں کا بیان ہے
زیرنظرمقالہ میں رجب کے کونڈوں کی تاريخ كے آئینے میں نقاب کشائی کی گئی ہے اوریہ ثابت کیا گیا ہےکہ یہ امامیہ شیعہ کی ایجادکردہ بدعت ہے جس کوصحابی رسول امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات پربطورخوشی ہرسال بائیس رجب کومنایا جاتا ہے اوراسے مذہبی رنگ دیکرامام ابوجعفرصادق کی کرامت کی طرف منسوب کردیا گیا اور"داستان عجیب " سےمشہورکردیا گیا جس سے متاثرہوکرموجودہ دورکےبہت سارے نام نہاد مسلمان جہالت ولاعلمی اوراندھی تقلید کے طورپرشیعوں کے نقش قدم پرچلتے ہوئے اس اعتقاد سے مناتے ہیں کہ"رجب کے کونڈوں کا ختم پیش آمدہ مصائب وپریشانی سے نجات کا سبب ہے" اس بدعت کی ابتداء ہندوستان میں مشہورشاعرامیرمینائی کے بیٹے خورشید مینائی کے ذریعے "داستان عجیب "نامی کتاب کی1906 م ميں تقسیم واشاعت سے ہوئی اوررفتہ رفتہ پورے ہندوستا ن میں پھیل گئی. شریعت سے اسکا دورکا بھی واسطہ نہیں.
اس کتاب میں ماہ رجب سے متعلق جتنے غیر شرعی امور عوام میں رائج ھیں اس کی حقیقت واضح کی گئی ھے اور بتایا گیا ھے کہ بدعت سے اجتناب اور سنت کے اتباع ھی سے امت دین ودنیا کی فلاح حاصل کر سکتی ھے ۔
كيا حضرت عيسٰی علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے؟ ایک طویل مدت تک تو امت مسلمہ کے ہاں یہ مسئلہ اجماعی رہا کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالی کی قدرت کاملہ سے معجزانہ طور پر باپ کے بغیر پیداہوئے – لیکن تقریبا ڈیڑھ صدی قبل برصغیر پاک وہند میں یہ بازگشت سنائی دی کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام عام بچوں کی طرح پیدا ہوئے-عصر حاضر میں غلام احمد پرویز ، مرزا غلام احمد قادیانی ، جاوید احمد غامدی اور ان کی فکر کے علمبردار لوگ اسی قسم کے نظریات کی ترویج واشاعت میں مگن ہیں- زیر نظر کتاب میں ابو القاسم محب اللہ شاہ راشدی نے اسی مسئلے کو زیر بحث لاتے ہوئے اس ضمن میں متعدد علمی مباحث پر دلائل کی روشنی میں گفتگو کی ہے-حضرت جبرائیل علیہ السلام کی بشارت اور حضرت ابراہیم و زکریا علیہ السلام کی بشارت کا تذکرہ کرتےہوئے حضرت عیسی علیہ السلام کی معبودیت کا رد کیا ہے- کتاب کے آخر میں ولادت سیدنا عیسی علیہ السلام کے متعلق مولانا ثناء اللہ امر تسری کے خیالات کو سپردقلم کیا گیاہے-
زیرنظر ویڈیو میں یہ بتایا گیا ہے کہ حقیقی سعادت مند کون ہیں ,انکی کیا صفات ہیں؟ اوركس طرح دنیا وآخرت میں انسان سعادت کا مستحق ہوسکتا ہے؟نہایت ہی مفید ویڈیو ہے ضروردیکھیں.
زیرنظرویڈیومیں محمد صلى اللہ علیہ وسلم کے خاتم الأنبیاء ہونے کودیگرادیان کی کتابوں سے ثابت کیا گیا ہے نہایت ہی مفید ویڈیوہے ضروردیکھیں.
زير نظر مقالہ میں سعودی مصنف احمد سالم بادویلان کی سگریٹ نوشی کے چھوڑنے سے متعلق اسکی اپنی آپ بیتی ہے جوروزانہ اسّی سگریٹ استعمال کرتا تھا اللہ نے اسکواس خطرناک عادت سے نجات دی توبطور نصیحت اسنے سگریٹ وتمباکونوشی کے رسیا لوگوں کیلئے یہ مقالہ لکھا ...اوراسطرح سگریٹ چھوٹ گئی.نہایت ہی مفید مقالہ ہے ضرورمطالعہ کریں.
زیر نظر کتاب علامہ رحمت اللہ بن خلیل الرحمن کیرانوی ہندی کی مایہ ناز تالیف " اظہارالحق " کا جامع اختصارہے جسے " مختصراظہارالحق " کے نام سے جامعة الملك سعود, ریاض سعودی عرب کے استارڈاکٹر محمد عبدالقادر ملکاوی نے مرتب کیا ہے اور اسکو اردو قالب میں عالم اسلام کے مایہ نازمصنف شیخ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے ڈھالا ہے اس کتاب میں عیسائیت کی حقیقت , اھل تثلییث کی طرف سے بائبل میں مختلف ادوارمیں کئے گئےتحریف وتغیرکا بیان اورعیسائی مشنریوں کے ذریعہ اسلام کے خلاف پھیلائے جانے والے باطل شکوک وشبہات وریشہ دوانیوں کا مکمل رد پیش کیا گیا ہے نہایت ہی مفید واپنے موضوع پرجامع ونادرکتاب ہے ضرورمطالعہ کریں.
زیرنظرکتاب"یہ در،یہ آستانے"دراصل آپ بیتی ہے ایک ایسے شخص کی جوتیس سال سےزائد عرصہ تک شرک وبدعت اوراوہام وپرخرافت کے بحربیکراں میں غرق حیران وسرگرداں رہا...بالآخرایک دن سفینہ توحید پرسوارہوکرساحل حق ونجات سے ہمکنار ہوا...پھراپنے اس سفرنامہ توحید کوصفحہ قرطاس کیا تاکہ دنیا کے پیشترحصوں میں اسکے ہی جیسے حالات اورنفسیاتی کیفیات سے دوچارپے شمارمسلمانوں کیلئے یہ مشعل راہ ثابت ہو. نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرورمطالعہ کریں.